پیسہ بچانے کے طریقے

اگر آپ یہ بھی محسوس کرتے ہوئے کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ، تو بھی آپ رقم بچا سکتے ہیں !

پیسہ بچانے کے طریقے

اگر آپ یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ کے پاس کچھ بھی نہیں ، تو بھی آپ رقم بچا سکتے ہیں

مصنفہ : عائشہ بیگ، FMFB-Pakistan

سلیم خان کو جب ایک سافٹ ویئر کمپنی میں اچھا کام ملا تو وہ اور اس کا خاندان 2002 کے وسط میں کراچی منتقل ہو گئے ، سالوں کی کمائی سے اپنے پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے بعد ایک نئے میٹرو شہر میں اپنی حالت بہتر بنانے کے لئے انہوں نے اپنی سماجی معاشرت میں ایک صاف جگہ حاصل کر لی تھی ۔ ابھی دس سال پہلے جب وہ 42 سالہ انفارمیشن ٹیکنالوجی منیجر تھا ، اب بھی وہیں بیٹھا ہے ، اس شہر کی جائیدا د کی قیمتوں میں اضافہ اوپر کی طرف ہی جا رہا ہے اور اسے یہ فکر کھائے جا رہی ہے کہ وہ کیسے اپنے تین بچوں کو اچھی یونیورسٹیوں میں پڑھا سکے گا ۔ دس سال پہلے جو فیصلہ ایک دانشمندانہ اقدام لگتا تھا اب ایک غیر یقینی معیشت میں بدل چکا تھا ، لیکن سلیم کا مالیاتی عدم تحفظ اب بھی اسے راتوں کو جگائے رکھتا ۔ پاکستان کی معیشت نے گزشتہ پانچ سالوں کے دور کے دوران ترقی کی رفتار کو کھو دیا ہے ۔ اقتصادی ترقی کی شرح جو گزشتہ آٹھ سال میں %5.3 تھی اس کے مقابلے میں اب یہ اوسط صرف %2.6 کے ارد گرد رہ گئی ہے ۔ عالمی مالیاتی بحرانوں کی طرح اس کی ایک سے زیادہ وجوہات ہیں جن میں دہشت گردی ، سیکورٹی کے خطرات ، سیاسی عدم استحکام ، بجلی کی شدید قلت اور مسلسل تین سال کے لئے تباہ کن سیلاب کے خلاف جنگ میں شدت سے نہ صرف اقتصادی ترقی میں کمی آئی ہے بلکہ اس کے تباہ کن اثرات مرتب ہوئے ہیں ، خوراک کی انتہائی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور افراط زر سے اس ملک میں رہنے والے سادہ لوح لوگوں کی روز مرہ زندگی پر منفی اثرات مرتب کرتے ہوئے انتہائی متاثر کیا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ سلیم خان کو مالی عدم تحفظ کا سامناہے ۔۔۔۔۔۔۔۔یا مجھے ڈر ہے کہ آپ کو بھی ہے ؟

” آپ کو پہلے بچت اور بعد میں خرچ کرنا سیکھنا چاہئے ” جان پول
غیر مستحکم اور غیر یقینی اقتصادی حالات جن میں ایک اوسطاً پاکستانی رہتا ہے ، ہمیں اپنے مالی مقاصد کو حاصل کرنے کا چیلنج درپیش ہے۔ ایک گھر کا حصول ، ہمارے بچوں کی اعلیٰ تعلیم ، بچوں کی شادی، ایک کاروبارکی شروعات یا توسیع ، آرام دہ اور پرسکون ریٹائرمنٹ وغیرہ ، اس پر متضاد یہ کہ بیماری ،بے روزگاری ، گھروں کی تعمیر ،گاڑیوں کی مرمت، اتنے زیادہ مسائل ہیں جو ہماری معاشی کشتی کو بھنور میں لے سکتے ہیں ۔ کیا ہم ان مسائل سے منٹنے کے لئے تیار ہیں ؟ اس سوال پر آپکا جواب جو بھی ہے ، یہ آپ کو “پیسے کی بچت” کے بارے میں ایک سوچ دے گا ۔ آپ کو پہلے بچت اور بعد میں خرچ کرنا سیکھنا چاہئے

ہم بچت کیوں کرتے ہیں ؟

لوگ مختلف وجوہات کی بناء پر بچت کرتے ہیں ،ایک تو زیادہ تحفظ حاصل کرنے کے لئے ، یہ جانیں کہ اگر میں بیمار پڑ گیا تو مجھے دوسرے پر انحصار کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ وہ میرے ہسپتال کے بل ادا کریں ۔ مجھے خوراک کی خریداری یا یوٹیلٹی بلوں کی ادائیگی کیلئے قرض لینے کی ضرورت نہیں پڑے گی ، امیں اپنی ریٹائرمنٹ کے بچت کرتا ہوں تاکہ میں آج سے 20 سال بعد کی زندگی آرام اور سہولت سے گزار سکوں ، جب میں کام کرنے اور پیسہ کمانے کے قابل نہیں رہوں گا ۔ اس احسان کا ایک حصہ مالی طور پر آزاد اور دوسروں سے مدد کو قبول نہ کرنے والے یا اپنی انا کے دیرینہ اصول سے آتا ہے ۔ موجودہ وقت میں سب کے ساتھ یہاں تک کہ آپ کے قریبی رشتہ داروں اور دوستوں اور مختلف مالیاتی ذمہ داری رکھنے والوں کی موجودگی میں مجھے یہ آواز انسان دوستی سے انکار کی طرح لگتی ہے ، کیا یہ سوچنا غلط ہے ؟ یہاں کچھ دیگر افراد ہیں جو اپنے بچوں کے مستقبل کے لئے بچت کرتے ہیں ،نہ صرف ان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے ، بلکہ زندگی کے ہر مرحلے پر ان کے لئے بہترین مواقع فراہم کرنے کے لئے ۔ وہ بچے کی پیدائش کے وقت سے باقاعدہ طور پر بچت کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ بچے کو ایک اچھا پلے اسکول کے حصول سے شروعات مل سکیں ۔ لوگ اپنے لئے ،اپنی ریٹائرمنٹ کے لئے یا ایک گھر خریدنے کے لئے بچت کرتے ہیں ۔ لہذا تکنیکی طور پر وہ ان کے مستقبل کا خیال رکھنے کے بارے میں خود سے سوال کرتے ہیں ۔ وہ خود کو کچھ دیر کے لئے اپنے آپ پر انحصار کی صلاحیت دے رہے ہیں کہ اب نہیں بڑھاپے میں نہیں مالی تحفظ حاصل ہو گا ۔ کچھ لوگ ہنگامی حالات کے لئے بچت کرتے ہیں ، قدرتی آفات اور مالیاتی جھٹکے ، غیر متوقع واقعات جن میں سے ایک قریبی پیارے کی موت جیسے واقعات راتوں رات ان کی زندگی کو تبدیل کر سکتے ہیں ۔ اہم چیز یہ ہے کہ جن حالات میں ہم آج رہ رہے ہیں ان کا احساس اور ایک بہتر کل کے لئے منصوبہ بندی کی جائے

بچت کیسے کی جائے ؟

آپ محسوس کر سکتے ہیں کہ آپ اپنی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے زیادہ نہیں کماتے ، اور اس وجہ سے آپ بچت نہیں کر سکتے ۔ یا اس طرح لگ سکتا ہے کہ آپ کے پاس بچانے کے لئے کچھ بھی نہیں ہے ، کیا آپ اب بھی پیسے بچا سکتے ہیں ۔ اس کے لئے آپ کو مختصر مدت اور طویل مدتی مقاصد اور ان اہداف کے حصول کو قابل رسائی ٹائم فریم سے دونوں طرح کی بچت کا اہداف مقرر کرنا ضروری ہے کہ اس کے مطابق ، آ پ اپنے مقاصد کو حاصل کرنے کے لئے فی مہینہ ، فی ہفتہ ، یا فی دن بچت کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ کو کسی بڑی رقم کی بچت کی ضرورت نہیں ، یہ کوئی بھی رقم ہو سکتی ہے ،لیکن باقاعدہ بنیاد وں پر ۔ یہ اہم ہے کہ آپ جس قدر خرچ کرتے ہیں اس پر قابو پائیں تا کہ آپ باقاعدہ بنیادوں پر بچت کر سکیں ۔ اپنے اخراجات کا ایک ریکارڈ رکھیں ، اور جتنا آپ کماتے ہیں اس سے زیادہ خرچ نہ کریں ۔ سوچیں کہ کیسے آپ اپنے اخراجات کو کم کر سکتے ہیں ۔ کیا آپ کار کے ایندھن سے کم کر سکتے ہیں، باہر کھانے کو روک سکتے ہیں ،اور مزاق کرنے کے غیر محدود ایس ایم ایس کم کر سکتے ہیں ،یا روزانہ کی بنیادوں پر صرف ایک کپ چائے کا کم کر کے ؟ میں نے لاہور میں غریب عورتوں کو دیکھا ہے جنہوں نے چھوٹی رقم سے بچت شروع کی صرف 100 روپے ہفتے میں ۔لیکن جب انہوں نے اپنے روزانہ کے اخراجات کا ریکارڈ رکھا تو انہیں احساس ہوا کہ وہ اپنے روزمرہ کے کریانے کی خریداری میں 20 روپے زیادہ روزانہ خرچ کر رہی تھیں جسے وہ آسانی سے روک سکتی تھیں اور انہوں نے اسے روک کر اپنے بچوں کو زیادہ جیب خرچ دینا شروع کر دیا تاکہ وہ اسے سکول کینٹین میں خرچ کر سکیں ۔ اس لئے ، اپنے معاشی اہداف کو ترجیح دیں اور اپنا بجٹ بنائیں ۔ بچت آپ کی ترجیح ہونا چاہئے ، لہذا صرف وہ نہ بچائیں جو مہینے کے آخر میں رہ جائے ۔ اپنی بچت کو بل یا تنخواہ کی طرح باقاعدہ بنائیں اور اس کی ادائیگی کریں جتنا جلدی آپ کر سکتے ہیں ۔ ہر ماہ جمع کی گئی ایک مقررہ رقم کے لئے تھوڑی سی سوچ کی ضرورت ہے ، کئی سالوں کے دوران ، آپ کی بچت سے ایک بہت بڑی رقم بنے گی ، تا ہم اچھی چیزوں میں اکثر وقت آپ کی توقع سے زیادہ وقت لگے گا ۔ لہذا حوصلہ نہ چھوڑیں کہ جو آپ نے منصوبہ بنایا تھا ویسا نہیں ہوا ۔ اہم چیز یہ ہے کہ منصوبہ بندی پر سختی سے کاربند رہا جائے ۔

بچت کہاں رکھنی چاہئے ؟

بچت ایسی جگہ رکھنی چاہئے جو بچت کرنے والے کو حفاظت ، نقدی اور بچت کی مناسب واپسی کو یقینی بنائے ۔ آپ کو اپنی بچت کسی جگہ ؍ ادارے میں دینے سے پہلے درج ذیل امور غور کرنا چاہئے : 1 ۔ قانونی حیثیت : ادارے کی قانونی حیثیت اور بچت کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے اہم ہے کہ یہ پاکستان کے اسٹیٹ بینک کی طرف سے لائسنس یافتہ اور باقاعدگی سے چلایا جاتا ہے ،یا اسٹیٹ بینک نے ادارے کے جمع کردہ رقوم کے مفادات کو یقینی بنایا ہے ؟ 2 ۔ ادارے کے شراکت دار / مالکان : ان کی مالی طاقت ، مارکیٹ میں ان کی ساکھ اور اور حصص یافتگان کے کاروبار کی ادارے کے ساتھ کامیابی سے بچت کی سیکورٹی کی تصدیق ہوتی ہو ۔ 3 ۔ کریڈٹ کی درجہ بندی : کریڈٹ کی درجہ بندی بیرونی ایجنسیوں کی طرف سے مالیاتی اداروں کے لئے کی جاتی ہے جس کی بنیاد ان کی خدمات کے معیار اور کام کرنے کی شفافیت پر ہوتی ہے ۔ لہذا یہ ادارے کی ساکھ اور صلاحیت کا ایک اشارہ ہے ۔ 4 ۔ انتظامیہ : جائزہ لیں کہ کون آپ کی بچت کو منظم کرے گا اور آیا انہیں ایسا کرنے میں صحیح مہارت ، علم اور تجربہ ہے ۔ ایک باقاعدہ بینک کے پاس ایسے پیشہ ور لوگ ہوتے ہیں جو بچت کے انتظامی امور میں ماہر ہوتے ہیں تاکہ وہ محفوظ اور متحرک رہے ۔ 5 ۔ آسان رسائی/ پہنچ : غور کرنے کا ایک اور عنصر ہے کہ آیا ادارے میں جو رقم رکھی گئی ہے ضرورت کے وقت واپس لی جا سکتی ہے ۔اگر وہ بوقت ضرورت قابل وصول نہ ہو تو بچت کا مقصد ضائع ہو جاتا ہے ۔ 6 ۔ کمائی / بچت پر واپسی : ایک سرمایہ کاری پر دیئے جانے والے واپسی کے منافع پر غور کرنا ہو گا ۔ جمع کی گئی رقم مسابقتی مارکیٹ کی شرح کی بنیاد پر جمع کرانا اور واپس لینا چاہئے ۔ یہ امر دماغ میں رکھنا اہم ہے کہ غیر رسمی مالیاتی ادارے جیسا کہ موہری گھر ، گاؤں کی تنظیم ، کوآپریٹو سوسائٹی ، مویشی سرمایہ کار ، وغیرہ مارکیٹ کے ریٹ کے مقابلے میں زیادہ کی پیشکش کرتے ہیں ۔ تا ہم اس طرح کے ادارے اسٹیٹ بینک کے تحت کام نہیں کر رہے ہوتے اور ان کی کارروائیوں کی کوئی بھی آزاد گورننگ باڈی کی نگرانی نہیں کر رہی ہوتی ، اس بناء پر ، ان کے کاروبار کی کارکردگی ، شفافیت اور پائیداری خطرے میں ہوتی ہے ۔ ہو سکتا ہے کہ آج وہ آپ کو ایک بہتر شرح پیش کر رہے ہوں لیکن وہ آپ کی ذاتی بچت واپس دینے کے لئے ہو سکتا ہے کل وہاں نہ ہوں ۔ لہذا ،جہاں آپ بچت کرنے کی جگہ کا فیصلہ کریں تو پہلے رقم کی واپسی اور خطرات کے دوران توازن رکھیں ۔

انٹونی ڈی سینٹ ایکسوپیری نےایک بار مستقبل کے بارے میں کہا تھا کہ ” جہاں تک مستقبل کا تعلق ہے ، آپ کا کام اسے دور سے دیکھنا نہیں ، بلکہ اس کے قابل بننا ہے ” ۔ آپ نہیں جانتے کہ مستقبل میں کیا ہونے والا ہے ، لیکن اب بچت کرنے کا مطلب ہے آپ وہ اس سب کا مقابلہ کر سکیں گے جو مستقبل میں ہونے والا ہے ۔ آپ مقابلہ مواقع سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوں گے دوسروں کی نسبت جنہوں نے اس کے لئے تیاری نہیں کی اور وہ اتنی تیزی سے چھلانگ نہیں لگا سکیں گے جتنی جلدی آپ لگا سکتے ہیں۔ اور مستقبل میں حیران کن امور ہو سکتے ہیں (ہیلو تین )وہ آپ کی زندگی کو بدلنے کا موقع ہو سکتا ہے،لیکن اگر آپ معاشی طور پر تیار ہیں ،تو آپ اپنے آپ کو زندگی دے سکتے ہیں اور اپنے خاندان کو بھی جس کی آپ ہمیشہ سے تمنا رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ میں ہمیشہ بغیر کسی خاص مقصد کے جیسے بھی ہو رقم ایک طرف بچا کر رکھنے میں خوشی محسوس کرتا ہوں ۔ کیونکہ آپ کبھی معلوم نہیں کر سکتے کہ آپ کو مستقبل میں کس چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے اور آپ کے ماضی سے زیادہ بڑی خوشی آپ کے موجودہ زمانے کو محفوظ کرنے میں موجود ہے ، واقعی آپ کیا چاہتے ہیں ! بائے کیرا بوتکن