ایک بڑے چیلنج کے لئے گھریلو حل

 

ایک بڑے چیلنج کے لئے گھریلو حل

مصنفہ : عائشہ بیگ، FMFB-Pakistan

200 قبل مسیح کے بعد سے ، شاہراہ ریشم ایک تجارتی راستے کے طور پر ریشم اور مصالحہ جات کا سامان چین سے مغربی دنیا کو پہنچایا جاتا ہے ۔ آج ، یہ خطہ دنیا میں پہاڑی چوٹیوں ،،قدرتی برفانی وادیوں کے درمیان اچھلتے دریا اور جھیلوں کے عکس کے ساتھ توجہ کا مرکز ہے، غیر ملکی چھٹیاں منانے والوں اور پروہتوں کی ایک بڑی تعداد بحرہ روم کی معیشت کو استحکام اور امن فراہم کرتے ہیں ۔ ابھی تک ، علاقے میں عورتوں اور مردوں کا وجود جہاں ترقی کا منبع ہے وہیں ان پہاڑی سلسلوں میں سے ایک بہت ہی نازک ماحول پیدا کرتا ہے ۔
مقامی آبادی جس طرح اس انتہائی سخت ماحول کی وادیوں میں رہ رہی تھی اس کے بارے میں دنیا کو تقریباً تین دہائی پہلے تک معلوم بھی نہیں تھا ۔ مقامی پہاڑی لوگ اپنی بقاء کے لئے کاشتکاری اور مویشیوں پرانحصار کر کے انتہائی غربت کی زندگی گزارتے اور ایک بہتر مستقبل کی موہوم کی امید پر زندہ تھے ،کہ ملک کے شمالی علاقوں کی دیہی غریب آبادی نے اپنی حالت زار کی بہتری کے لئے ایک خواب کوپروان چڑھایا اور اپنی زندگیاں بہتر بنائیں ۔ ایسا ہی ایک خواب پاکستان کے غریبوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلیاں پیدا کرنے کے لئے ہے ۔

یہ نقطہ نظر 1982 میں سامنے آیا ،جب آغا خان فاؤنڈیشن (اے کے ایف ) نے غریبوں کی فلاح و بہبود ایک نئے ولولے سے شروع کرنے کے لئے آغا خان رورل سپورٹ پروگرام (AKRSP) تشکیل دیا ۔ اس پروگرام میں شراکت کے نقطہ نظرکے تحت دیہی ترقی میں عمل انگیز جدید ماڈل تیار کئے گئے اورمقامی لوگوں کے مل کر کام کرنے سے بنیادی ڈھانچے ، قدرتی وسائل اور ذریعہ معاش کی ترقی کے لئے ایک مربوط منصوبہ شروع کرنے کے ساتھ ساتھ AKRSP نے گاؤں والوں کے لئے ایک بچت پروگرام متعارف کرایا ۔ خواتین اور دیہی تنظیموں (ڈبلیو اوز ؍ وی اوز )کو منظم کیا گیا کہ وہ ہفتہ وار بنیادوں پر ملیں تاکہ ان میں ہم آہنگی مضبوط ہو سکے اور ان کی مالی صلاحیت کے مطابق ان ملاقاتوں میں بچت کرنے کے لئے ہدایات دی گئیں ۔ اس کے نتیجے میں ہفتہ وار کی بنیاد پر صرف چند خرافات کے ترک کرنے سے یہ غریب خواتین چند ماہ کے اندر 50 سے 100 پاکستانی روپے کی بچت کرنے لگیں ۔ یہ پروگرام ان دیہاتی خواتین کی بہتری اور ان کے بہتر مستقبل کے لئے قائم کیا گیا تھا جس سے ذریعہ معاش کی استعداد بڑھانے کے ساتھ ساھ چھوٹے قرضوں کی مانگ میں بھی اضافہ ہوا ۔ تا ہم اس مرحلے پر وہاں کوئی معاشی ادرہ موجود نہیں تھا جو زرعی اخراجات کے لئے صرف 250 پاکستانی روپے بھی قرضہ بھی انہیں دینے کے لئے تیار ہوتا ، لیکن صرف چند ماہ کی بچت سے ایک نئی جدت کے ساتھ اعتماد اور ساکھ کی فضاء پیدا ہوئی جس سے اس مسئلہ سے نمٹا گیا اور اس طرح گھریلو بچت کے حل کا بیج بویا گیا
ایک فرد کی ترقی میں مائیکرو فنانس کے گہرے اثرات
کراچی سے دولت حبیب جو اپنے تیں بچوں کے ساتھ اکیلی ماں تھی ،اسے اپنی زندگی کے ابتدائی سالوں میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور چھوٹے بچوں کی کفالت کے لئے گھر سے اشیاء پکا کر ایک چھوٹا سا کھانے پینے کاکاروبار شروع کیا ۔ تا ہم ، اسے جلد ہی زندگی میں صحت کے بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا ،اور طبی اخراجات پورے کرنے کے لئے کئی بار اسے اپنے گھر کی جمع پونجی اور تمام اثاثے بھی بیچنا پڑے ۔ اس نے چھوٹے قرض کے حصول کے لئے سب سے پہلے (بینک ) مائیکرو فنانس بینک سے رابطہ کیا اور اپنی خاندان کی بہتری کے لئے کیٹرنگ کا ایک نیا کاروبار شروع کرنے میں کامیاب ہوئی ، دولت جلد ہی ایک کافی اچھی آمدنی کمانا شروع ہو گئی اور جب اسے پتہ چلا کہ بینک صرف 5 پاکستانی روپے کی ایک چھوٹی سی رقم سے ایک بچت اکاؤنٹ کھول رہا ہے تو اس نے 100 پاکستانی روپے جمع کرنے کے ساتھ ہی اپنا پہلا بینک اکاؤنٹ کھول دیا ۔ آج ، اسے زندگی کی تمام بنیادی ضروریات حاصل ہیں اور اس کے گھرانے کی زندگی کے مجموعی معیار میں بہتری آئی ہے ۔

AKRSP پروگرام کا قیام چھوٹے کسانوں کی ایک بڑی تعداد کو قرضوں کی فراہمی کے لئے وجود میں آیا ۔ ابتدائی طور پر چھوٹے قرضوں کے حصول کے خواہشمند زرعی کسانوں کو معلومات فراہم کی گئیں ۔ وقت کے ساتھ ساتھ ڈبلیو اوز ؍ وی اوز کے ارکان کے لئے درخواست پر قرض کی اقسام میں اضافہ کیا گیا۔
ساکھ اور وصولی کی بہتر شرح کے ساتھ ، بین الاقوامی ترقیاتی اداروں بھی ایک بڑی تعداد میں AKRSPکے منفرد ڈھانچہ کی حمایت کے لئے اس میں شراکت داری کے میدان میں داخل ہوئے ۔
اس سے آغا خان ڈیولپمنٹ نیٹ ورک (AKDN) پاکستان میں ملک سطح پر غریب کی بدلتی مالی ضروریات کی حمایت جاری رکھنے کے لئے ایک طویل مدتی پائیدار ماڈل کی ضرورت کو تسلیم کیا گیا ۔

گیئر تبدیل کرنا :دی فرسٹ مائیکرو فنانس بینک لمیٹڈ

2002 میں ، AKRSPکے کریڈیٹ اور بچت کے پروگرام سے پہلی دفعہ غریب طبقے کی طرف سے بچت جمع کرانے سے 450 ملین پاکستانی روپے حاصل کئے اور پاکستان میں قومی سطح پر مائیکرو فنانس بینک نے 1.8 ارب پاکستانی روپے سے قرضے فراہم کئے جو پاکستان میں پہلا پرائیویٹ سیکٹر قومی سطح کا چھوٹے قرضوں کی فراہمی کا بینک ہے۔
یہ بینک اس مقصد کے حصول کے لئے تشکیل دیا گیا تھا کہ ان لوگوں تک پہنچا جائے جنہیں پورے ملک بشمول دیہاتی علاقوں اور شہری علاقوں میں بھی مختلف جہتی اور نسلی بنیادوں پر غربت کا مقابلہ کرنے کے لئے ابھی تک معاشی خدمات فراہم نہیں ہو رہیں ، دیہاتی علاقوں کے ساتھ ساتھ شہری علاقوں میں بھی مختلف جہتی اور نسلی بنیادوں پر غربت کی وجوہات کے حل کے لئے AKDNکے فلسفہ کے مطابق صارفین کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا ہے ۔ بینک کے مقاصد یہ ہیں :

  • پہنچ /رسائی :پاکستان کے شہری اور دیہی علاقوں میں رہنے والے انتہا پسند اور اعتدال پسند غریب آبادی اورخاص طور پر خواتین کو کو بہتر طور پر مستفید کرتے ہوئے مالیاتی خدمات کا ایک وسیع دائرہ کار فراہم کرنا
  • استحکام : آمدنی کے ذریعے افراط زر پرقابو پانے ، اخراجات کو پورا کرنے کے لئے معمولی بچت پیدا کرنے ،اور خدمات فراہم کرنے سے اور جغرافیائی کوریج کی حد بڑھانے میں اہم کردار ادا کر نا۔
  • اثر : محتاط ہدف بندی، نگرانی اور اندازے کے ذریعے، بینک کا غریب مقامی افراد پر اثر انداز ہو کر کو زیادہ سے زیادہ بہتری کے لئے کام کرنا ۔
  • شفافیت: اچھے طریقوں، اخلاقی قوانین اور کاروبار کے انعقاد میں راست بازی کے اعلی ترین معیارات متعارف کرانا

ایک منفرد امتزاج کی تشکیل: مائیکرو فنانس بینکنگ

ایک منفرد ماڈل تیار کرنے کے خواہشمند ہیں جو اپنی کارکردگی کے معیار کے ساتھ ،منظم طورپر اور نگرانی کے تحت غریبوں کو مرکزی دھارے میں لانے کے لئے مالیاتی خدمات فراہم کر سکے ۔ پہلے چند سال کیلئے اس کی بنیادی توجہ غریب اور دیہی اور شہری علاقوں میں متنوع اقتصادی سرگرمیوں کی نوعیت سماجی اور ثقافتی دونوں سرگرمیوں کے پیش نظر بینک نے صارفین کی خدمات پر مبنی ایک مجموعہ تیار کیا ہے ۔ بینک نے اپنی وسیع تحقیق اور تجربات کی بناء پر ملکی اور بین الاقوامی سطح پر حاصل شدہ تجربہ کی بنیاد پر مائیکرو فنانس خدمات کی وسیع پیمانے پر فراہمی اور جدید بینکاری کے طریقوں کے ساتھ اجتماعی طور پر غربت کے مسئلے سے نمٹنے پر یقین رکھتا ہے ۔ دیگر داروں کے برعکس بینک نے زیادہ توجہ سماجی مقصد کے بجائے تجارتی مقاصد پر دی جن میں زیادہ سے زیادہ منافع ہے ۔ یہ غریبوں کی زندگیوں پر اثرانداز ہو کر ان کے لئے ایک بہتر مستقبل کی امید فراہم کرنے میں کوشاں ہے

گلگت بلتستان ، چترال (جی بی سی ) میں 16 مقامات کے ایک نیک ورک کو وراثت میں حاصل ،بینک نے گزشتہ دس سال کے دوران پنجاب اور سندھ میں بنیادی طور پر وسعت دی اور اس وقت جی بی سی ، پنجاب اور سندھ میں 79 مکمل سروس شاخیں موجود ہیں اور مالیاتی خدمات فراہم کر رہی ہیں ۔ 158239 صارفین کو (مائیکرو کریڈٹ) خدمات کی مد میں مبلغ 3.515 بلین پاکستانی روپے کی رقم مختص کی گئی ہے ۔
بینک کو ایک منفرد بینکاری کے خوبصورت ماڈل پر فخرہے ، یہ پاکستان میں واحد مائیکرو فنانس بینک ہے اور دنیا کے چند گنے چنے بینکوں میں سے ایک ہے جو اپنی پوری قرض کی کتاب کے فنڈکو اپنی مدد آپ کی بچت کے ذریعے جمع کرتا ہے۔

دنیا بھر میں مائیکروفنانس اداروں کو درپیش بڑے چیلنجز میں سے ایک دوردراز دیہی علاقوں میں سرمایہ کاری مؤ ثر انداز میں پہنچانا ہے ، جہاں سب سے زیادہ بینک کی سہولت سے محروم کمزور اور غریب لوگ رہائش پذیر ہیں،بینک نے ایک متبادل ترسیل کا راستہ تلاش کرتے ہوئے پاکستان میں برانچ لیس بینکنگ (بغیر شاخوں کے بینکنگ )کے تصور کی تلاش کا آغاز کیا ۔ 2009 میں، بینک نے ذیلی دفاتر کے وسیع نیٹ ورک (ایس او ایس ) سے قرضے کی خدمات کی فراہمی کے لیے پاکستان پوسٹ کے ساتھ ایک منفرد شراکت داری قائم کی،اور اسے آگے بڑھانے کے لئے ایک تیز رفتار اور زیادہ سرمایہ کاری کے دائرہ کار کو موثر انداز میں بڑھانے میں کامیاب رہا ہے.۔2011 میں، بینک نے اسی طرح کے ماڈل کے تحت حبیب بینک لمیٹڈ کے ساتھ شراکت داری قائم کی

اقتصادی مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے غریب طبقات کو فعان کرنے اور بنیادی سماجی سہولیات تک رسائی فراہم کرنے اور سرمایہ کی سہولت فراہم کرنے سے بینک نے پاکستان بھر میں غریبوں کی مختلف مالی ضروریات کو پورا کیا ۔ قرض کی کھانے پینے کے کاروبار میں پراڈکٹس ایک وسیع دائرہ کار فراہم کرتا ہے ۔ مائیکرو کریڈٹ فارم( زراعت اور مویشیوں ) اور بغیر فارم کی بنیاد پر سرگرمیاں جن میں مینوفیکچرنگ اور تجارتی خدمات سے اقتصادی سرگرمیوں کے ذریعے چھوٹے کاروبار ی صارفین کو مائیکرو کریڈٹ معلومات فراہم کی جاتی ہیں ۔ قرض کی سہولیات سرکاری اور نجی شعبے کی تنظیموں ، پنشنرز اور کم تنخواہ دار ملازمین کے لئے دستیاب ہیں ۔ تعلیم ، صحت اور گھریلو ضروریات کے لئے ہاؤسنگ کی بہتری کے قرضوں اور مختصر مدت کے سماجی قرضے بھی بینک کی جانب سے فراہم کئے جاتے ہیں ۔ ضروریات اور کاروبار کی سرگرمیوں کا تعین کرنے اور واپسی کے شیڈول تشکیل دینے کے لئے بینک اکاؤٹ میں رقم اور قرض لینے والے کے کاروباری کی وسعت دونوں کاحساب رکھا جاتا ہے اور کاروباری وسعت کے حساب سے ہی قرضہ دیئے جانے کے طریقہ کار کو اپنایا جاتا ہے ۔ تمام قرض حاصل کرنے والوں کوزندگی اور کریڈٹ کے بیمہ سے مستفید کیا جاتا ہے ۔ قرض لینے والے کی مستقل معذوری یا موت کی صورت میں ، قرض لینے والے کے تمام بقایا واجبات کی انشورنس کمپنی کی طرف سے ایڈجسٹ کی جاتی ہے ۔ اس کے علاوہ خاندان کے ہنگامی اخراجات کے لئے 10,000 پاکستانی روپے سے امداد بھی کی جاتی ہے ۔

خدمات کا ایک وسیع دائرہ کار بشمول اکاؤنٹ کی جانچ پڑتال ، بچت کھاتوں اور اصطلاح کے ڈپازٹ سمیت بچت سہولیات تمام آمدنی حاصل کرنے والے گروپوں کے لئے پیش کی جاتی ہیں ۔ افراد پاکستانی روپے کے بہت کم سرمائے کے ساتھ اپنا اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں اس کے لئے کارروائی کے کوئی چارجز ادا نہیں کرنا پڑتے اور اور کم از کم بچت برقرار رکھنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی ۔ کم بچت کرنے والے صارفین (جن کی بچت 25,000 پاکستانی روپے سے کم ہو )
کے لئے رقم کی واپسی کی شرح کے اضافی فوائد تمام بچت سکیموں پر پیش کئے جاتے ہیں ۔ بینک اس قرض سے صارفین کو صحت کی انشورنس کی سہولت فراہم کرتا ہے ۔ ہسپتال میں داخل ہونے کی صورت میں قرض لینے والے اور اس کے خاندان کے سالانہ 50,000 پاکستانی روپے تک وصول کئے جاتے ہیں۔ مزید برآں، بینک آرڈر اور مطالبہ ڈرافٹ کی سہولت اور آن لائن بینکنگ کی سہولتیں فراہم کرنا اور فنڈ ٹرانسفر ؍ ترسیلات زر کی خدمات فراہم کرتا ہے ۔

کاروبار کو فروغ دینے اور ترقی دینے کی امداد کے طور پر،بینک نئے اور موجودہ مائیکرو فنانس کے صارفین کے لئے جامع معلومات اور کاروبار کی ترقی کے لئے تربیت دیتا ہے اور دیہی اور شہری مقامات میں اپنی سہولیات کا تجربہ کرتا ہے ۔ دودھ کے شعبے کی مجموعی طور پر ترقی کے لئے قیمت کے نظام اور سپلائی چین کی ترقی کو اہمیت دی جاتی ہے ، دودھ کی فراہمی بڑھانے کے لئے غریب عورتوں اور مردوں کے کسانوں کے ساتھ 2005 میں اینگرو فوڈز (پرائیویٹ)لمیٹڈ نے ان کے ساتھ تعاون کیا۔ اسی طرح مائیکروفنانس شعبے میں پہلی بار مربوط سپلائی چین کی ترقی کے لئے ایک ماڈل قائم کیا گیا جس سے کسانوں کو مارکیٹ تک رسائی فراہم کی گئی ہے جبکہ بینک دودھ کی پیداوار اور آمدنی کو بڑھانے کے لئے دودھ سپلائرز کو سرمایہ بھی فراہم کرتا ہے ۔

2010 میں، FMFB-Pakistan نے حکومت کے کینیڈی اسکول، ہارورڈ یونیورسٹی کے ساتھ شراکت سے کام شروع کیا جس میں معاشرتی کارکردگی پر تحقیق کے منصوبے مکمل کرنے سے غربت طبقہ کا معیار زندگی ، قابل سماجی اشاریوں اور غربت کا شمار مرتب کر نے کا ایک سیٹ تیار کرنے اور غریب لوگوں کی زندگیوں پر بینک کی سہولیات کے اثرات کی نگرانی کے لئے ،بینک کی طرف سے ہدف مقرر کئے گئے ۔ پراڈکٹس تیار کرنے اور آسانی سے غریب کو خدمات کی فراہمی کے ذریعے اس کے ذریعہ معاش میں تبدیلیوں پر توجہ دی گی تا کہ غریب کو صحیح طور پر خدمات فراہم کی جا سکیں

مستقبل کی حفاظت کے ساتھ آگے بڑھنا:

بینک نے قراقرم میں دیہاتوں کی سرحدوں کو توسیع دینے کے ساتھ ساتھ کراچی میں کورنگی کی شہری گنجان بستیوں اورملک کے چاروں صوبوں میں ایک ٹھوس پلیٹ فارم قائم کیا ہے ،جو تیزی سے پھیل رہا ہے۔ 1,054 پیشہ ورانہ تعلیم یافتہ انتظامیہ کے افراد اور تربیت یافتہ فیلڈ عملے کی ایک ٹیم کے ساتھ، بینک نے اس طرزکے نئے ترقی کے پلیٹ فارم کی تشکیل، دیہی علاقوں اور شہری علاقوں میں گنجان آباد کچی آبادیوں میں اور دور دراز کے دیہاتوں میں غریبوں کی اگلی نسلوں کی بہتری کے لئے ان کے گھر کی دہلیز تک خدمات پہنچا رہا ہے ۔
بینک معاشرے کے غریب ترین طبقات تک پہنچنے اور وقار اور فخر کے ساتھ ایک مضبوط اور محفوظ مستقبل کی تعمیر کے لیے کوشاں ہے اور نہ صرف غریب افراد کی زندگیوں کے لئے بلکہ ان کے لئے ایک پائیدار اقتصادی ترقی کے ذریعے غربت کے خاتمے کے لئے مصروف عمل ہے